رحمت خدا کی عشقِ زلیخانہ جہاں ہو

وے شور ہے سودا ہے واں دیوانہ جہاں ہو 


سر کٹتے ہیں کثرت سے واں بت خانہ جہاں ہو 

    تلواریں چلا کرتی ہیں  رندانہ  جہاں ہو


وحشت  وہیں چھلکے گی کہ پیمانہ جہاں ہو 

ذوقِ جنوں و شوخئ رندانہ جہاں ہو 


آواز مرے شہر نے میری نہیں سنی

پھر کیوں نہ پکاروں میں جا  ویرانہ جہاں ہو


تم سے ہی یہ ملنا ہے یہ ملنا ہے تمہیں سے

خود سے وہیں ملتی ہوں کہ مے خانہ جہاں ہو  


آ پاس  مرے ساقی  کریں عشق میں وجداں 

 بنتی وہیں خالص ہے  دو مستانہ جہاں ہو 


 مسند یہی ہے میر کی فائز جہاں  ہوں میں

واعظ وہیں ہے مجھ کو صنم خانہ جہاں ہو 


گو  قیس کی   فرہاد  کی دیوانگی مشہور

سودا پہ ہے بھاری مرا افسانہ جہاں ہو 


محشر سے بپا ہوتے ہیں دنیا کی زمیں پر

اٹھتی ہے  قیامت وہاں  دیوانہ جہاں ہو  


شوقِ جواں کی عید تری دید ہے،   شہرو

تو ہی تو ہے واں معنئ میخانہ جہاں ہو 


شہرِ حسن