تھام کر ہاتھ بات کی اس نے

اف رے کیا واردات کی اس نے


مجھ کو بخشی ہے دید کی دولت

ادا اپنی 'زکوٰۃ کی اس نے 


شمس چہرے سے دن نکالا پھر

لیل زلفیں تھیں رات کی اس نے


سرخ ڈوروں سے نین کے باندھا

شیریں لہجے سے مات کی اس نے


وہ جو مطلب سے بات کرتا تھا

آج مطلب کی بات کی اس نے


اتصالی ہو روح سے ایسے 

خواہشِ شش جہات کی اس نے

-------------------------------

ابو لویزا علی