گھنی زلفوں کا جال، استغفار
رُخ ِ " یسریٰ وصال " استغفار
دودھیا گال ، شربتی آنکھیں
رنگ ہونٹوں کا لال ، استغفار
دیکھ کر تُجھ کو آہ بھرتا ہوں
اتنا حُسن و جمال ، استغفار
وقت بےوقت گفتگو تُجھ سے
کال پر کال ، کال ، استغفار
سادگی پر نہ جائیے اُس کی
اُس پری وِش کی چال، استغفار
دل لگی، شاعری، محبّت، اور
عشق پر ھے ملال ، استغفار
آدمی باکمال مَیں بھی تو ہوں
آپ ہیں بے مثال ، استغفار
شاعری اور شعور دونوں ہیں
میری جاں کے وَبال، استغفار
تیرا اِک اِک جواب اعلٰی ھے
میرا اِک اِک سوال ، استغفار
آپ جس کے لئے، دعا مانگیں
اُس پہ آئے زوال۔۔۔۔۔ استغفار
دل سے توبہ اگر نہیں کرنی
پاس اپنے سنبھال ،، استغفار